15 اکتوبر 2014 - 16:53
دہشت گرد گروہوں کے بانی ہی ان کے خاتمے کے نام نہاد ہیرو

علاقے کے بعض ممالک ایک عرصے سے دہشتگرد گروہوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اس حوالے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن اور ترکی کے نام لیے جا سکتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق علاقے کے بعض ممالک ایک عرصے سے دہشتگرد گروہوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اس حوالے سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن اور ترکی کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ دوسرے ملکوں کے امور میں عدم مداخلت کی پالیسی کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں قرار دے رکھا ہے اور اس بارے میں تہران کا موقف ٹھوس اور واضح ہے، جبکہ یہ ایسی صورت میں ہے کہ بعض ممالک اس حوالے سے ایران پر بےبنیاد الزامات لگاتے رہتے ہیں۔
پیر کے دن جدہ میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفصل نے اپنے جرمن ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف شام کے داخلی امور میں مداخلت کے اپنے بےبنیاد الزام کو دہرایا۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ کسی سعودی عہدیدار نے اس قسم کا بیان دیا ہو، سعودی عرب کے حکام اس سے پہلے بھی ایسے بےتکے اور بےبنیاد بیانات دیتے رہے ہیں کہ جن کا نہ کوئی سر ہوتا ہے اور نہ ہی کوئي پیر، سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے ایران مخالف بیان کے تناظر میں ہمارے ساتھی نے عالمی امور خاص طور سے مشرق وسطی کے امور کے معروف پاکستانی تجزیہ نگار جناب صفدر رضا سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا۔
صفدر رضا کا انٹرویو سننے کے لیے نیچے میڈیا پلیئر پر کلک کیجیے۔
سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے ایران پر شام کے امور میں مداخلت کا الزام ایسی حالت میں لگایا ہے کہ جب سعودی عرب خود وہ ملک ہے جس نے عراق اور شام میں دہشت گردوں کی حمایت میں دیگر حامی ملکوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔
سعودی وزیر خارجہ سعود الفیصل نے شہر جدہ میں اپنے جرمن ہم منصب " فرانک والٹر اشٹائن مائر کے ساتھ مشترکہ کانفرنس میں اسلامی جمہوریہ ایران کو شام کے بحران میں شریک قرار دیا اور شام میں تکفیری دہشت گردوں کی موجودگی سے چشم پوشی کرتے ہوئے ایران پر یہ جھوٹا الزام عائد کیا کہ یہ ایرانی فوجی ہیں جو شامیوں سے لڑ رہے ہیں۔
سعودی وزیر خارجہ نے شام میں ایران کی فوجی موجودگی کا دعوی ایسی حالت میں کیا ہے کہ جب سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ مل کر سعودی عرب میں ایسا مرکز قائم کیا ہے جہاں شام کی فوج سے جنگ کرنے کے لئے دہشت گردوں کو تربیت دی جائے گی۔
امریکہ نے سعودی عرب میں دہشت گردوں کی تربیت کے لئے پانچ سو ملین ڈالر کا بجٹ مختص کیا ہے اور دہشت گردوں کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنے کے لئے دہشت گردی کو، اچھی اور بری، دوقسموں میں تقسیم کر دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شام میں تقریبا چار سال سے جاری بحران میں بعض دیگر ملکوں کے ساتھ امریکہ اور سعودی عرب کا بھی ہاتھ ہے اور ان دونوں ملکوں نے دنیا کے مختلف علاقوں سے دہشت گرد عناصرکو تلاش کرنے اور انھیں دہشت گردانہ کاروائیوں کی انجام دہی کے لئے شام بھیجنے میں کسی قسم کی کوشش سے دریغ نہیں کیا ہے ۔
سعودی عرب، امریکہ کے گرین سگنل کے ذریعے، علاقے میں غاصب صہیونی حکومت کو سیکورٹی فراہم کرنے پر مامور ہے اور وہ امریکہ کے دیگر ناجائز اہداف کو حاصل کرنے کا ایک ذریعہ اور عالم اسلام کو کمزور کرنے کے لئے آشکارا طور پرتسلط پسند نظام کے تابع ہے۔
مشرق وسطی کی حالیہ صورت حال کا جائزہ لینے سے یہ پتہ چلتاہے کہ سعودی عرب، شام اور عراق سے لے کر بحرین اور یمن تک میں تخریب کارانہ کردار ادا کرتے ہوئے مختلف روشوں سے تسلط پسند نظام کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔
سعودی عرب، شام میں دہشت گردوں کی کھلم کھلا مالی مدد بھی کر رہا ہے حتی سعودی افسران بھی شام میں دہشت گرد گروہوں کی مدد کر رہے ہیں۔
سعودی انٹلیجنس ادارے کے سابق سربراہ " بندر بن سلطان" نے شام میں اسیّ سے زیادہ ملکوں سے دہشت گردعناصر کو شام روانہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عراق میں سعودی عرب کا منفی کردار کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
سعودی حکام نے شام کا بحران جاری رکھنے کے لئے کالعدم بعث پارٹی کے اراکین کی حمایت و مدد کی ہے اور ان کی جانب سے گرین سگنل دینے پر دہشت گرد تکفیری گروہ داعش نے شمالی عراق کےشہر موصل پر قبضہ کر لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت امریکہ، سعودی عرب سمیت بعض ممالک کو فریب دے کر علاقے میں اپنے منصوبوں کوآگے بڑھا رہا ہے۔
دہشت گرد تکفیری گروہ داعش کا قیام اور پھر اس گروہ کےخلاف نمائشی اتحاد کو امریکہ کے تسلط پسند اہداف کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
سعودی عرب نے صرف شام اور عراق میں ہی نہیں بلکہ بحرین میں بھی تخریبی اقدامات انجام دیے ہیں۔ سعودی فوجی، بحرین کی آل خلیفہ حکومت کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ملکر بحرینی عوام کے پرامن مظاہروں کو کچل رہے ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی میں مبینہ کردار ادا کر رہے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے نقطۂ نظر سے اگر سعودی عرب، بحرین میں اپنی فوجی موجودگی ختم کر دیتا تو اس ملک کے جاری بحران کی سیاسی راہ حل ہو سکتی تھی جس کے نتیجے میں قومی مذاکرات کا انعقاد عمل میں آ سکتا تھا اور بحرینی عوام کو آل خلیفہ کے ظلم وجارحیت سے بچایا جاسکتا تھا۔
ایران نے ہمیشہ علاقے کے عوام کے مطالبات کی حمایت کی ہے اور وہ علاقے کے ملکوں میں ہر قسم کی فوجی مدا خلت سے دور ہے اور بین الاقوامی اصول و ضوابط کے دائرے میں دہشت گردی سے مقابلہ کرنے میں، عراق اور شام کی حکومت وعوام سمیت علاقے کےدیگر ملکوں کی بھی مدد کر رہا ہے۔
دہشتگردی تمام ممالک کے لئے ایک خطرہ ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سعودی عرب ،لندن اور واشنگٹن کے ساتھ ملکر اپنے آپ کو اس مسئلے سے دور رکھنا چاہتا ہے۔
سعودی حکام کی نظر میں برطانیہ، امریکہ اور سعودی عرب وغیرہ کا دہشتگردی کے خلاف اتحاد دہشتگردی کے خلاف مقابلے کا واحد راستہ ہے اور اس کے ہیرو بھی وہی لوگ اور ملک قرار پائیں گے جنہوں نے ان دہشت گرد گروہوں کو جنم دیا۔

.....

/169